حکومت نے ایک اور بڑی موٹروے بنانے کا فیصلہ کر لیا ، منصوبے کا افتتاح کب ہو گا ؟ تفصیلات جانئے

جہلم (آن لائن) تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی وفاقی حکومت نے ایک اور بڑ ی موٹروے بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کی حکومت نے کھاریاں سے اسلام آباد تک موٹروے بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جسکا افتتاح آئندہ ماہ وزیراعظم عمران خان کریں گے۔یاد رہے کہ لاہور سے سیالکوٹ سے موٹروے پہلے ہی تعمیر ہو چکی ہے جس پر سفر کر کے عوام مستفید ہورہے ہیں جبکہ وزیراعظم کی طرف سے سیالکوٹ سے کھاریاں تک موٹروے کا سنگ بنیاد چند ماہ قبل رکھا گیا، عوام کو سفری سہولیات دینے کے لیے حکومت اب کھاریاں سے اسلام آباد تک موٹروے کو توسیع دینا چاہتی ہے۔جہلم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ شمالی پنجاب کے سب سے بڑے روڈ پراجیکٹ کا وزیراعظم نومبرمیں افتتاح کرینگے، نومبر میں وزیراعظم شمالی پنجاب کی سب سے بڑی موٹر وے کھاریاں سے اسلام آباد کا افتتاح کریں گے، اس سے لاہور سے اسلام آباد 100 کلو میٹر سفر کم ہو جائے گا، کروڑوں کی آبادی اس سے استفادہ حاصل کرے گی۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)کے منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کو راولپنڈی تا کھاریاں، میانوالی تا مظفرگڑھ اور حیدرآباد تا سکھر شاہراں پر پیشرفت کی تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سابقہ دورحکومت کے 3 سالوں میں 645 کلومیٹر کی سڑکیں تعمیر ہوئیں، موجودہ حکومت کے 3 سالوں میں کل 1753 کلومیٹر لمبائی کی سڑکیں مکمل ہو چکی ہیں۔ موجودہ حکومت کے 3 سالوں کے دوران 6118 کلومیٹر لمبائی پر مشتمل سڑکوں کی منصوبہ بندی مکمل کی گئی، مالی سال میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی 27 منصوبے مکمل کر لے گی، بلوچستان میں 3 ہزار کلومیٹر سے زیادہ کی سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی میں سڑکوں کا اہم ترین کردار ہے، معیاری سڑکوں کی تعمیر سے دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان رابطہ، تجارت اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے، اچھی سڑکوں کی وجہ سے گاڑیوں کی مرمت اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے اخراجات بھی کم ہو جائیں گے، مواصلات کے اہم اور بڑے منصوبوں پر روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت کا خود جا ئزہ لوں گا، منصوبوں کی بر وقت تکمیل کے لیے فنڈز کا اجرا یقینی بنایا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں